ابنا: دو سال سے زيادہ عرصے سے طالبان کے ساتھ خفيہ مذکرات کرنے کے بعد قطر ميں طالبان کے نمائندہ دفتر کا باقاعدہ افتتاح کروانے کے بعد امريکي محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سياسي مفاہمت سے تخريبي کارروائياں کم ہو جاتي ہيں لہذا اس کے لئے ہم کوشش کرتے رہيں گےـانہوں نے افغان ايوان صدر پر طالبان کے حملے کي مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس واقعے سے ايسا لگتا ہے کہ طالبان مذاکرات کے لئے تيار نہيں ہيں ـترجمان نے کہا کہ شديد بے اعتمادي کي فضا ہے تاہم امريکا مذاکرات کے لئے تيار ہے اور گيند طالبان کے کورٹ ميں ہےـوائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھي کہا کہ صدر باراک اوباما نے افغان صدر حامد کرزئي سے بات چيت کي اور مذاکرات شروع کرنے پر زور دياـادھر افغانستان اور پاکستان کے لئے امريکا کےخصوصي نمائندے نے اسلام آباد ميں پاکستان کے وزير اعظم نواز شريف سے ملاقات کي اور افغانستان ميں مصالحت کي کوششوں اور قطر ميں طالبان کا دفتر کھولے جانے کے بارے ميں انہيں آگاہ کياـ ...../169
25 جون 2013 - 19:30
News ID: 433958
امريکا نے کہا ہے کہ افغان طالبان مذاکرات کے لئے تيار نظر نہيں آتےـ